Friday, 10 December 2021

دامن کو بھی تر رکھنا آنکھوں کو بھی نم رکھنا

 دامن کو بھی تر رکھنا، آنکھوں کو بھی نم رکھنا

رکھنا تو سرِ محفل، دونوں کا بھرم رکھنا

اے پیرِ مغاں! جس کا جو حق ہو بہم رکھنا

یعنی مِرے ساغر میں سَم آئے تو سَم رکھنا

یہ حلقۂ گیسو ہے،۔ وہ تاجِ سرِ دارا

یہ زیبِ گلو رکھنا، وہ زیرِ قدم رکھنا

آدابِ جنوں ہم نے یہ عشق سے سیکھے ہیں

فریاد کی لَے دھیمی لَو دِیپ کی کم رکھنا

پھر عشق ہی خود رہرو پھر عشق ہی خود منزل

اس راہ میں مشکل ہے بس پہلا قدم رکھنا

ہم صبح پرستوں کی یہ رِیت پرانی ہے

ہاتھوں میں قلم رکھنا، یا ہاتھ قلم رکھنا


خالد علیگ

No comments:

Post a Comment