اسے پسند نہیں تھا تو کچھ جدا کرتی
دِیے کی آگ پہ چائے نہیں بنا کرتی
ہمارے بعد سنبھلنا، تمہیں بتاتے چلیں
ادھوری لڑکی زیادہ نہیں جیا کرتی
میں اس سے جب کبھی لیتا تھا وقت لیتا تھا
مگر وہ میری ہنسی تک بھی لے لیا کرتی
اسے خبر بھی نہ ہوتی کہ میں دُکھا ہوا ہوں
جو پھوٹ پھوٹ کے روتا تو وہ پتہ کرتی
اب اک زمانہ ہے اس کا، بڑے مسائل ہیں
اکیلی تھی تو وہ سایوں سے بھی ڈرا کرتی
میں چاکلیٹ بھی دیتا روانہ کرتے ہوئے
بچھڑنے کے لیے مجھ سے تو مشورہ کرتی
وہ ہاسٹل میں ہی ٹھکرا چکا تھا عشق مِرا
تو جام پور کی آب و ہوا بھی کیا کرتی
آل عمر
آلِ عمر
No comments:
Post a Comment