آدمی صِفر ہے
آج جب میں نے زماں کے آئینے میں
آدمی کو غور سے دیکھا ذرا
تو سمجھ پایا کہ انساں صفر ہے
جو اکیلا ہو اگر
تو فقط اک حلقۂ بے قدر ہے
جو، سراسر کھوکھلا ہے اپنی صورت کی طرح
جو عدد میں ہو اگر
تو بڑھاتا یا گھٹاتا ہے عدد کی قدر کو
دس گُنا کی شرح سے
آج جب میں نے مکاں کے آئینے میں
آدمی کو غور سے دیکھا ذرا
تو سمجھ پایا، کہ آدمی صفر ہے
ایک نسلِ آدمی ہے اک کڑی
ہر کڑی اک صفر ہے
شکل میں بھی ہے، جسامت میں بھی ہے
ساری کڑیوں کو اگر باہم کریں پیوست تو
اِک بڑی انت کی زنجیر پاتی ہے نمو
اور انسانوں کی یہ تاریخ بھی ایسی ہی اک زنجیر ہے
جس میں شامل ہر کڑی اک نسل ہے
آدمی افقی، عمودی، ہر طرف سے صفر کی مانند ہے
انتخاب عالم
چانگ شی شوان
No comments:
Post a Comment