عارفانہ کلام نعتیہ کلام
وہ عطر میں لپٹا گل و گلزار کا بستر
جنت کا بچهونا، مِرے سرکار ﷺ کا بستر
اس رات کے عالم کو تصور میں تو لاؤ
ہے جسم علیؓ کا، شہِ ابرارﷺ کا بستر
صدیقؓ کے زانو پہ جو رکھا سرِ اقدس
اک یار کا زانو ہوا،۔ اک یار کا بستر
کس سمت میں موڑی گئی تھی وقت کی رفتار
لوٹے تو ابھی گرم تھا سرکارﷺ کا بستر
چُھونے سے اسے جہل بھی تہذیب ہو جائے
آقاﷺ نے بچھایا ہے جو کردار کا بستر
آنے سے محمدﷺ کے شفایاب ہوئی ہے
دنیا تھی یہ ورنہ کسی بیمار کا بستر
مسعود ساگر
No comments:
Post a Comment