عارفانہ کلام حمدیہ کلام
اے خدا روزِ ازل سے اس چراغِ طور تک
تُو ہی تو آیا نظر میری نظر کو دور تک
نورِ حق سنتے ہیں تیری اک جھلک کے واسطے
سولیوں پہ چڑھ گئے تھے سرمد و منصور تک
تیرے ذکر و فکر میں مشغول ہیں بندے تِرے
خانۂ کعبہ سے لے کر خانۂ معمور تک
ہیبتِ حق کی وجہ سے بجھ گئے آتشکدے
قوتِ باطل کے ٹوٹے قصر کے کنگور تک
تشنگانِ کربلا یہ جانتے ہیں اے اسد
ظلم ڈھایا جائے گا ان پہ شبِ عاشور تک
اسد ہاشمی
No comments:
Post a Comment