تابِ دیدار جو لائے مجھے وہ دل دینا
منہ قیامت میں دکھا سکنے کے قابل دینا
ناتوانوں کے سہارے کو ہے یہ بھی کافی
دامنِ لطفِ غبار، پسِ محمل دینا
ذوق میں صورتِ موج آ کے فنا ہو جاؤں
کوئی بوسہ تو بھلا اے لبِ ساحل دینا
ہائے رے ہائے تِری عقدہ کشائی کے مزے
تُو ہی کھولے جسے وہ عقدۂ مشکل دینا
ایک فتنہ ہے قیامت میں بہارِ فردوس
جز تِرے کچھ بھی نہ چاہے مجھے وہ دل دینا
درد کا کوئی محل ہی نہیں جب دل کے سوا
مجھ کو ہر عضو کے بدلے ہمہ تن دل دینا
آسی غازیپوری
ﺁﺳﯽ ﻏﺎﺯی پوﺭﯼ
No comments:
Post a Comment