Sunday, 5 December 2021

میں جب بھی ترے شہر خوش آثار سے نکلا

 میں جب بھی ترے شہر خوش آثار سے نکلا

اک قبر کا ٹکڑا بھی فلک زار سے نکلا

ہر وار میں مضمر تِری حکمت ہے سپاہی

ہر جیت کا مژدہ تِری تلوار سے نکلا

پھر اپنی ہی ہیبت میں گرفتار ہوا میں

پھر کوئی درندہ مِرے پندار سے نکلا

یہ کس نے سفینے کو نکالا ہے بھنور سے

یہ کون شناور ہے جو منجدھار سے نکلا

کچھ بھی نہ ملا میرے خریدار کو مجھ میں

اس کا بھی پتا چشمِ خریدار سے نکلا

یہ کون ہے جو بن کے کرن ناچ رہا ہے

یہ کون ہے جو روزنِ دیوار سے نکلا

اس سمت نظر آئے غزالانِ قبا پوش

اس سمت ضیا عقل کے آزار سے نکلا


ضیا فاروقی

No comments:

Post a Comment