Sunday, 19 December 2021

قفس جسم سے چھٹتے ہی یہ پراں ہو گا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


قفسِ جسم سے چھٹتے ہی یہ پرّاں ہو گا

مرغِ جاں گنبدِ خضرا پہ غزلخواں ہو گا

روز و شب مرقدِ اقدسؐ کا جو نگراں ہو گا

اپنی خوش بختی پہ وہ کتنا نہ نازاں ہو گا

اس کی قسمت کی قسم کھائیں فرشتے تو بجا

عید کی طرح وہ ہر آن میں شاداں ہو گا

اس کی فرحت پہ تصدق ہوں ہزاروں عیدیں

کب کسی عید میں ایسا کوئی فرحاں ہو گا

چمنِ طیبہ میں تو دل کی کلی کھلتی ہے

کیا مدینہ سے سوا روضۂ رضواں ہو گا

آپ آ جائیں چمن میں تو چمن جانِ چمن

خاصہ اک خاک بسر دشتِ مغیلاں ہو گا

جانِ ایماں ہے محبت تِری، جانِ جاناں

جس کے دل میں یہ نہیں خاک مسلماں ہو گا

دردِ فرقت کا مداوا نہ ہوا اور نہ ہو

کیا طبیبوں سے مِرے درد کا درماں ہو گا

نورِ ایماں کی جو مشعل رہے روشن پھر تو

روز و شب مرقدِ نوری میں چراغاں ہو گا

اک غزل اور چمکتی سی پڑھو اے نوری

دل جلا پائے گا میرا تِرا احساں ہو گا


نوری بریلوی

مصطفیٰ رضا

No comments:

Post a Comment