مجھ کو مل کے قرار تم سے ہے
رخ پہ سارا نکھار تم سے ہے
دیکھ کر الفتوں کی سر شاری
دل و جاں اب فگار تم سے ہے
غم نہیں مجھ کو اب ذرا کچھ بھی
میرا سارا وقار تم سے ہے
خستہ دل اب کبھی نہیں ہوں گا
رو کا سارا خمار تم سے ہے
سن لو اب پھر سے کہہ رہا ہوں میں
چین تم سے قرار تم سے ہے
بن گیے جب سے راہرو میرے
تب سے سارا ہی پیار تم سے ہے
خوب دل بستگی کرو عالم
بزم میں سب بہار تم سے ہے
عالم فیضی
No comments:
Post a Comment