Thursday, 10 March 2022

مجھ کو مل کے قرار تم سے ہے

 مجھ کو مل کے قرار تم سے ہے

رخ پہ سارا نکھار تم سے ہے

دیکھ کر الفتوں کی سر شاری

دل و جاں اب فگار تم سے ہے

غم نہیں مجھ کو اب ذرا کچھ بھی

میرا سارا وقار تم سے ہے

خستہ دل اب کبھی نہیں ہوں گا

رو کا سارا خمار تم سے ہے

سن لو اب پھر سے کہہ رہا ہوں میں

چین تم سے قرار تم سے ہے

بن گیے جب سے راہرو میرے

تب سے سارا ہی پیار تم سے ہے

خوب دل بستگی کرو عالم

بزم میں سب بہار تم سے ہے


عالم فیضی

No comments:

Post a Comment