کیسا مانوس ہے ہر بات بتا دیتا ہے
کیا ولی ہوتا ہے دل، سب جو سجھا دیتا ہے
میں طلب میں رہوں کیوں اس کی سرِ عرشِ علیٰ
دل کی دھڑکن سے جب آواز سنا دیتا ہے
عکسِ عالمِ ہُو کے میں بھلا کیوں جھانکوں
سب حجابات دروں جب وہ ہٹا دیتا ہے
میں کلیمی کی تڑپ سے کہیں بسمل ہوں ابھی
راز سرگوشی میں ازلی جو بتا دیتا ہے
یہ دریچے نہیں مبہم، جو کھلے تجھ پہ رباب
عشق آتش راہِ مسدود جلا دیتا ہے
طاہرہ رباب
No comments:
Post a Comment