Wednesday, 16 March 2022

خط سے خوشبو اڑ جاتی ہے

 خط سے خوشبو اڑ جاتی ہے

کاغذ سارے رہ جاتے ہیں 

رب کی مرضی ہی چلتی ہے 

اور ارادے رہ جاتے ہیں

لب پر انگلی رکھ لیتی ہو

ہم چپ سادھے رہ جاتے ہیں

 اس کے رعب حسن کے آگے

مارے باندھے رہ جاتے ہیں

 

وجیہ ثانی

No comments:

Post a Comment