Saturday, 12 March 2022

دل جس کا درد عشق کا حامل نہیں رہا

 دل جس کا درد عشق کا حامل نہیں رہا

وہ شخص تیرے پیار کے قابل نہیں رہا

جب بھی حنائی ہاتھوں سے گیسو سنور گئے

آئینۂ بہار مقابل نہیں رہا

ہر آستاں سے لوٹ کے آنا پڑا اسے

جو تیرے در پہ آنے کے قابل نہیں رہا

محرومیاں ہی جس کا مقدر ہیں دوستو

وہ محفل نشاط کے قابل نہیں رہا

جب تم نہ تھے تو کچھ بھی نہیں تھا بہار میں

تم آ گئے تو کوئی مقابل نہیں رہا

دیوانے تیرے ڈوب گئے گہری نیند میں

زنداں میں شور طوق و سلاسل نہیں رہا

جب آپ مسکرائے غم دل کی بات پر

دل درد کو چھپانے کے قابل نہیں رہا

تنہائیوں کی بزم ہی اچھی رہی خیال

محفل میں پر سکون کبھی دل نہیں رہا


فیض الحسن خیال

No comments:

Post a Comment