Wednesday, 16 March 2022

تیر پہ تیر نشانوں پہ نشانے بدلے

 تیر پہ تیر نشانوں پہ نشانے بدلے

شکر ہے حسن کے انداز پرانے بدلے

پیار رسوا نہ ہوا آج تلک دونوں کا

ہم نے ملنے کے نئے روز ٹھکانے بدلے

دور آزادیٔ گلشن کا بہت یاد آیا

میرے حصے کے جو صیاد نے دانے بدلے

اک ملاقات نے دل پر کیا ایسا جادو

پھر نہ اترا وہ نشہ لاکھ سیانے بدلے

در بدر ٹھوکریں کھا کر نہ مقدر بدلا

میرے حالات بھی بدلے تو خدا نے بدلے

پہلے جیسا نہیں ماحول رہا گلشن کا

رخ بدل اب تو ہواؤں کے زمانے بدلے

پیش کیا کرتے انہیں جام محبت عارف

عمر کے ساتھ یہ موسم بھی سہانے بدلے


سید عارف

No comments:

Post a Comment