اپنی چمک دمک میں جو سونے کی طرح ہے
تم دیکھ لو پرکھ کے وہ تانبے کی طرح ہے
نوشہ نے آم نوش کیے، شوق میں مجھے
وہ ہونٹ اتنا میٹھا کہ چونسے کی طرح ہے
صدیوں پہ ہے محیط محبت کا یہ سفر
لیکن تمہارا ساتھ تو لمحے کی طرح ہے
اک ہمسفر بھی ساتھ چلے قافلہ گنوں
اک فرد بھی مجھے تو قبیلے کی طرح ہے
چادر تمہاری صاف بھی میلی لگی اسے
اس شہر کا دماغ ہی کچرے کی طرح ہے
تُو نے گنوا دیا ہے جسے سستا جان کر
پر وہ غریب شخص تو ہیرے کی طرح ہے
چوما ہے اتنے شوق سے کاشف ظریف نے
ذلت کا تیرا طوق بھی تمغے کی طرح ہے
کاشف ظریف
No comments:
Post a Comment