Monday, 14 March 2022

اپنی چمک دمک میں جو سونے کی طرح ہے

 اپنی چمک دمک میں جو سونے کی طرح ہے

تم دیکھ لو پرکھ کے وہ تانبے کی طرح ہے

نوشہ نے آم نوش کیے، شوق میں مجھے

وہ ہونٹ اتنا میٹھا کہ چونسے کی طرح ہے

صدیوں پہ ہے محیط محبت کا یہ سفر

لیکن تمہارا ساتھ تو لمحے کی طرح ہے

اک ہمسفر بھی ساتھ چلے قافلہ گنوں

اک فرد بھی مجھے تو قبیلے کی طرح ہے

چادر تمہاری صاف بھی میلی لگی اسے

اس شہر کا دماغ ہی کچرے کی طرح ہے

تُو نے گنوا دیا ہے جسے سستا جان کر

پر وہ غریب شخص تو ہیرے کی طرح ہے

چوما ہے اتنے شوق سے کاشف ظریف نے

ذلت کا تیرا طوق بھی تمغے کی طرح ہے


کاشف ظریف

No comments:

Post a Comment