تمہارے واسطے خود کو سنوار سکتا ہوں
میں اپنی زندگی پھر سے گزار سکتا ہوں
انا پرست ہوں اور جیتنا ہی سیکھا ہے
مگر تِرے لیے ہر جیت، ہار سکتا ہوں
وفا ہے خون میں میرے مگر میں چاہوں تو
تمہیں میں آج بھی دل سے اتار سکتا ہوں
یہ دنیا والے تجھے چاند سونپ سکتے ہیں
اور میں غریب فقط جان وار سکتا ہوں
تُو اپنے حسن سے غافل پھرے ہے شہزادی
کبھی آ مل کہ میں تجھ کو نکھار سکتا ہوں
اگرچہ تیرا سراپا بیاں سے باہر ہے
مگر غزل میں تجھے میں اتار سکتا ہوں
آفاق خالد
No comments:
Post a Comment