جو آتے جاتے رہے رازدان بنتے گئے
کرایہ دار تھے، مالک مکان بنتے گئے
ہمارے سامنے بُوٹوں میں دال بٹتی رہی
جو پہریدار تھے وہ حکمران بنتے گئے
کہِیں کی مٹی کہِیں اور جمع ہوتی رہی
چراغ کھلتے رہے، خاندان بنتے گئے
میں اک جہانِ محبت بسا کے چھوڑ آیا
پھر اس جہان سے کتنے جہان بنتے گئے
یِہیں قریب میں جنگل تھا، اک گھنا جنگل
درخت کٹتے رہے، اور مکان بنتے گئے
میں شعر کہتا رہا، اور دفن کرتا رہا
سو خواب اکٹھے ہوئے، خوابدان بنتے گئے
یہ آب و خاک مِرے ساتھ چل پڑے عامی
سفر شروع کیا، بادبان بنتے گئے
عمران عامی
No comments:
Post a Comment