Friday, 18 March 2022

جو تو نے لوٹنے کا فیصلہ کیا مرے دوست

 جو تُو نے لوٹنے کا فیصلہ کیا مِرے دوست

تو پھر بتا کہ تِرے پاس کیا رہا مرے دوست

میں روتا چیختا تجھ کو پکارتا ہی رہا

یہ ویسے خواب تھا لیکن میں ڈر گیا مرے دوست

میں اس پہ آج بھی اک پھول رکھ کے آتا ہوں

وہ ایک بنچ جہاں تُو مجھے ملا مرے دوست

تُو مجھ سے پوچھے بِنا سانس تک نہ لیتا تھا

تو پھر یہ فیصلہ خود کیسے کر لیا مرے دوست

یہ سیٹی ریل کی تم کو سنائی دیتی ہے

بچھڑنے والا کہیں ہو نہ چیختا مرے دوست

میں زندگی سے بھی مایوس ہونے والا تھا

پھر ایک دن تُو کہیں مجھ سے آ ملا مرے دوست

میں ایک بار محبت میں ساتھ چلتا ہوں

سو آج سے مرے رستے ہیں سب جدا مرے دوست

میں اس کی خاک کو آنکھوں کا نور مانتا ہوں

وطن یہ میرا بھی ہے ارضِ کربلا مرے دوست


آفاق خالد

No comments:

Post a Comment