شیخ لطف شراب کیا جانے
نا شناسا، رباب کیا جانے
تم کہ بے وجہ ان سے برہم ہو
دل مخلص عتاب کیا جانے
جس کی ہستی ہو میکدہ و شراب
وہ گناہ و ثواب کیا جانے
دیکھے جو عشق میں زلیخا نے
تیرا یوسف وہ خواب کیا جانے
ان کی آنکھوں کا جام جام طہور
شیخ خانہ خراب کیا جانے
فاروق بلوچ
No comments:
Post a Comment