Tuesday, 5 July 2022

ایسی خاموش مرے یار دہائی دوں گا

 ایسی خاموش مِرے یار! دہائی دوں گا

کچھ نہ بولوں گا مگر تجھ کو سنائی دوں گا

خاک، آئینہ بنا لوں تُو ذرا دیر ٹھہر

تیرے افلاک سے پھر صاف دکھائی دوں گا

تُو مجھے چھوڑنا چاہے بھی تو ممکن کب ہے

میرے صیاد! تجھے میں نہ رہائی دوں گا

ایسا نکلوں گا تِری آنکھ کے ہر منظر سے

میں تجھے خواب میں بھی اب نہ دکھائی دوں گا

تیرے ہجراں میں جو پائی ہے دلِ مضطر نے

اے محبت! میں تجھے وہ بھی کمائی دوں گا


علیم حیدر

No comments:

Post a Comment