ہم نے کسی کی بات کو مانا تو ہے نہیں
دل میں تِرے علاوہ بسانا تو ہے نہیں
کیوں کہہ رہے ہو مجھ سے فلاں ہے، فلاں بھی ہے
میں نے تِرے سوا کہیں جانا تو ہے نہیں
جب آئے گا تو خود ہی مداوا کرے گا وہ
میں نے کسی کو زخم دکھانا تو ہے نہیں
درگاہ یار، دستِ دعا اور کسی کا دل
ان کے علاوہ اپنا ٹھکانہ تو ہے نہیں
تو پہلے اور لوگوں کو بے شک نواز لے
میں نے بھی آستان سے جانا تو ہے نہیں
کیوں فکر ہو کسی کو اثاثہ ہے کیا مِرا
ردی کا ڈھیر ہے یہ خزانہ تو ہے نہیں
کڑھتا رہوں گا جانے کہاں تک اکیلا ہی
جذبہ شکستہ دل کا بتانا تو ہے نہیں
بہتر ہے تم گلاب کو رہنے دو شاخ پر
اس نے یہ گیسوؤں میں سجانا تو ہے نہیں
بس تو ہے تیرے بعد قسم ہے کہ کچھ نہیں
اے دوستا! یہ سچ ہے، فسانہ تو ہے نہیں
اکرام افضل
No comments:
Post a Comment