Wednesday, 10 August 2022

جس کو بھی اسم محمد کا نگینہ مل گیا

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام بر خاتم النبین محمدﷺ 


جس کو بھی اسمِ محمدﷺ کا نگینہ مل گیا

یوں سمجھ لو سارے عالم کا خزینہ مل گیا

مشکلوں میں آپ کو جس نے پُکارا یا نبیؐ

یوں لگا گرداب میں اس کو سفینہ مل گیا

آبِ کوثر کی سوا توقیر اس دم ہو گئی

جس گھڑی اس میں محمدؐ کا پسینہ مل گیا

آپؐ کی چوکھٹ پہ سر اپنا جھکایا تو لگا

ہم کو جنت کی طرف اک اور زینہ مل گیا

جب خیالوں میں تِرے روضے کی جالی چُوم لی

یوں لگا ہم کو تو گھر بیٹھے مدینہ مل گیا

بدر کے میداں سے لے کے کربلا کے باب تک

ہم کو جینے اور مرنے کا قرینہ مل گیا

ناز کیوں اپنے مقدر پر نہ ہو ہم کو بتول

پھر گناہوں کی تلافی کا مہینہ مل گیا


فاخرہ بتول

No comments:

Post a Comment