Tuesday, 16 August 2022

بطون سنگ میں کیڑوں کو پالتا ہے تو ہی

عارفانہ کلام حمدیہ کلام


بُطونِ سنگ میں کیڑوں کو پالتا ہے تُو ہی

صدف میں گوہرِ نایاب ڈھالتا ہے تُو ہی

دلوں سے رنج و الم کو نکالتا ہے تُو ہی 

نفس نفس میں مسرّت بھی ڈالتا ہے تُو ہی 

وہ جن و اِنس و مَلک ہوں کہ ہوں چرند و پرند 

تمام نوعِ خلائق کو پالتا ہے تُو ہی

بغیر لغزشِ پا تُو ڈبو بھی سکتا ہے 

پھسلنے والوں کو بے شک سنبھالتا ہے تُو ہی

تُو ہی تو مُردہ زمینوں کو زندہ کرتا ہے

گُلوں کے جسم میں خوشبوئیں ڈالتا ہے تُو ہی

تِرے ذبیحؑ کی نازک سی ایڑیوں کے طفیل

سُلگتے صحرا سے زم زم نکالتا ہے تُو ہی

نجات دیتا ہے بندوں کو ہر مصیبت سے

شِکم سے مچھلی کے زندہ نکالتا ہے تُو ہی 

جو لوحِ ذہنِ مشاہد میں بھی نہیں یا رب 

وہ حرفِ تازہ قلم سے نکالتا ہے تُو ہی


مشاہد رضوی

No comments:

Post a Comment