Wednesday, 10 August 2022

گھبرائے گی زینب گھبرائے گی زینب

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام

سلامِ آخر


گھبرائے گی زینبؑ، گھبرائے گی زینبؑ

بھیا تمہیں گھر جا کے کہاں پائے گی زینبؑ

گھبرائے گی زینبؑ

کیسا یہ بھرا گھر ہوا برباد الٰہی، کیا آئی تباہی

اب اس کو نہ آباد، کبھی پائے گی زینبؑ

گھبرائے گی زینبؑ

گھر جا کے کیسے دیکھے گی، قاسمؑ ہے نہ عباسؑ

اکبرؑ سے بھی ہے آس، اپنے علی اصغرؑ کو، کہاں پائے گی زینبؑ

گھبرائے گی زینبؑ

پوچھیں گے جو سب لوگ کہ بازو پہ ہوا کیا، ، یہ نیل ہے کیسا

کس کس کو نشاں رَسی کے دِکھلائے گی زینبؑ

گھبرائے گی زینبؑ

پھٹ جائے گا، بس دیکھتے ہی گھر کو کلیجہ، یاد آؤ گئے بھیا

دِل ڈھونڈے گا تم کو تو، کہاں پائے گی زینبؑ

گھبرائے گی زینبؑ

بے پردہ ہوئی، قید بھی، ہر ظلم اٹھایا اور موت نہ آئی

کیا جانیے، کیا کیا ابھی اور دکھ گی زینبؑ

گھبرائے گی زینبؑ


دلگیر لکھنوی

 لالہ چھنو لال دلگیر

No comments:

Post a Comment