عارفانہ کلام نعتیہ کلام
میری روٹھی ہوئی تقدیر پلٹ کر آئی
نعت بھی آئی تو اشکوں سے لپٹ کر آئی
گنبدِ سبز پہ تھی سایہ فگن قوسِ قزح
اک کِرن نُور کی سو رنگوں میں بٹ کر آئی
آپﷺ کے شہر کو یکبارگی دیکھا اور پھر
آنکھ خود اپنی ندامت میں سمٹ کر آئی
اس لیے سانس کا چلنا ہوا آسان بہت
زندگی گنبدِ خضریٰ سے لپٹ کر آئی
انؐ کے دربار کی عظمت ذرا دیکھو زاہد
روحِ افلاک بھی ہر بار سمٹ کر آئی
زاہد شمسی
No comments:
Post a Comment