Monday, 8 May 2023

ماحول کی باتیں کیا کہیے ماحول میں بو بارود کی ہے

 ماحول کی باتیں کیا کہیے ماحول میں بُو بارود کی ہے

کیا یہ کہیے ہر شہر میں اب چل نکلی جو بارود کی ہے

میں تجھ سے دور دبئی میں ہوں پر دل کو دهڑکا دیس کا ہے

یہ دکھ کیا کم ہے دهرتی ماں کہ زد میں تُو بارود کی ہے

جوں سوکهے پهول بکهر جائیں یوں جسم سے اعضا اکهڑ گئے

وہ منظر کاش نہ دیکهے تو، جب چلتی لو بارود کی ہے

احساس کا خون بہاتے ہیں دل دے کر درد جلاتے ہیں

کیا پیار کی ہو گی افزائش ہر فرد میں خُو بارود کی ہے

اک ہاتھ میں امن کا پرچم ہے اک ہاتھ سے موت فروش کریں

ہے دعویٰ دین کے داعی کا، تقسیم ہر سُو بارود کی ہے


احمد جہانگیر داجلی

No comments:

Post a Comment