Wednesday, 12 July 2023

سرسراتے ہیں جبینوں میں ابھی کچھ سجدے

 ناتمامی


سرسراتے ہیں جبینوں میں ابھی کچھ سجدے

گیت پت جھڑ کا یہ کچھ اور بھی گائیں گے

ابھی اک گوشے میں معبد بھی ہے، ناقوس بھی ہے

کچھ خدا آئے ہیں، کچھ اور بھی آئیں گے

کچھ تو باقی ہے، یہ کیا باقی ہے، کیا باقی ہے

جھلملا اٹھے ہیں طاعت کے سہارے اب بھی

ابھی کھو جاتے ہیں تاریکی میں چمکیلے خیال

ٹوٹتے رہتے ہیں یہ ذہن کے تارے اب بھی

اک تسلی ہی سہی سینۂ ظلمت میں، مگر

کیا خبر ٹوٹ کے یہ تارے کہاں جاتے ہیں

اور بنتی ہوئی مواجِ سپیدی کے خطوط

کس کا پہنے ہوئے ملبوس ابھر آتے ہیں


فکر تونسوی

No comments:

Post a Comment