ناتمامی
سرسراتے ہیں جبینوں میں ابھی کچھ سجدے
گیت پت جھڑ کا یہ کچھ اور بھی گائیں گے
ابھی اک گوشے میں معبد بھی ہے، ناقوس بھی ہے
کچھ خدا آئے ہیں، کچھ اور بھی آئیں گے
کچھ تو باقی ہے، یہ کیا باقی ہے، کیا باقی ہے
جھلملا اٹھے ہیں طاعت کے سہارے اب بھی
ابھی کھو جاتے ہیں تاریکی میں چمکیلے خیال
ٹوٹتے رہتے ہیں یہ ذہن کے تارے اب بھی
اک تسلی ہی سہی سینۂ ظلمت میں، مگر
کیا خبر ٹوٹ کے یہ تارے کہاں جاتے ہیں
اور بنتی ہوئی مواجِ سپیدی کے خطوط
کس کا پہنے ہوئے ملبوس ابھر آتے ہیں
فکر تونسوی
No comments:
Post a Comment