عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دیر تھی صرف پیمبرﷺ کے نظر کرنے کی
پوری خواہش ہوئی طیبہ کو سفر کرنے کی
انﷺ کی پہچان کی خاطر ہوئے عالم تخلیق
یہ تگ و دو تھی زمانے کو خبر کرنے کی
پڑھ کے سیرت نہ میں کیوں نعت پہ مائل ہوتا
چشمِ حیراں کو ضرورت جو تھی تر کرنے کی
مہر و مہ طیبۂ اقدس کو سلامی دے لیں
اصل اتنی ہے یہ سب شام و سحر کرنے کی
یادِ سرورﷺ نے جو آنکھوں سے نکالا پانی
فکر تھی آب کو گویا کہ گُہر کرنے کی
قصرِ اشعار میں کیوں غیرِ پیمبرﷺ آئے
کیا ضرورت ہے عمارت کو کھنڈر کرنے کی
نعت میں فنی محاسن کا بڑا درجہ ہے
بات ہے دل پہ مگر اس کے اثر کرنے کی
رات بھر یادِ نبیﷺ میں تھا تو میری خواہش
رہی با دیدۂ تر آج سحر کرنے کی
اس کے اظہار سے محمود جھجکنا کیسا؟
ذکرِ سرکارﷺ میں ہو بات اگر کرنے کی
راجا رشید محمود
No comments:
Post a Comment