Monday, 9 October 2023

عالم وحشت تنہائی ہے کچھ اور نہیں

 عالم وحشت تنہائی ہے کچھ اور نہیں

سر پہ اک گنبد بینائی ہے کچھ اور نہیں

کیوں ہوا مجھ کو عنایت کی نظر کا سودا

آج رسوائی ہی رسوائی ہے کچھ اور نہیں

اپنا گھر پھونک چکا اپنا وطن چھوڑ چکا

یہ فقط بادیہ پیمائی ہے کچھ اور نہیں

ہو سکے تو کوئی فردا کی بنا لو تصویر

وقت جلووں کا تمنائی ہے کچھ اور نہیں

آؤ خوش ہو کے پیو کچھ نہ کہو واعظ کو

میکدے میں وہ تماشائی ہے کچھ اور نہیں


انجم اعظمی

No comments:

Post a Comment