Wednesday, 11 November 2020

آنکھوں میں نہاں ہے جو مناجات وہ تم ہو

 آنکھوں میں نہاں ہے جو مناجات وہ تم ہو

جس سمت سفر میں ہے مری ذات وہ تم ہو

جو سامنے ہوتا ہے کوئی اور ہے شاید

جو دل میں ہے اک خواب ملاقات وہ تم ہو

دن آئے گئے جیسے سرائے میں مسافر

ٹھہری رہی آنکھوں میں جو اک رات وہ تم ہو

ہر بات میں شامل ہیں تصور کے کئی رنگ

ہر رنگ تصور میں ہے جو بات وہ تم ہو

دکھ حد سے جو گزرا تو کھلا دل پہ کہ یوں بھی

در پردہ ہے جو محوِ مدارات وہ تم ہو

دلجوئی کا انداز بھی نرمی بھی وہی ہے

سینے پہ ہوا رکھتی ہے جو ہات وہ تم ہو

ہاں مجھ پہ ستم بھی ہیں بہت وقت کے لیکن

کچھ وقت کی ہیں مجھ پہ عنایات وہ تم ہو


ضیا جالندھری

No comments:

Post a Comment