آنکھوں میں نہاں ہے جو مناجات وہ تم ہو
جس سمت سفر میں ہے مری ذات وہ تم ہو
جو سامنے ہوتا ہے کوئی اور ہے شاید
جو دل میں ہے اک خواب ملاقات وہ تم ہو
دن آئے گئے جیسے سرائے میں مسافر
ٹھہری رہی آنکھوں میں جو اک رات وہ تم ہو
ہر بات میں شامل ہیں تصور کے کئی رنگ
ہر رنگ تصور میں ہے جو بات وہ تم ہو
دکھ حد سے جو گزرا تو کھلا دل پہ کہ یوں بھی
در پردہ ہے جو محوِ مدارات وہ تم ہو
دلجوئی کا انداز بھی نرمی بھی وہی ہے
سینے پہ ہوا رکھتی ہے جو ہات وہ تم ہو
ہاں مجھ پہ ستم بھی ہیں بہت وقت کے لیکن
کچھ وقت کی ہیں مجھ پہ عنایات وہ تم ہو
ضیا جالندھری
No comments:
Post a Comment