نا تمام رہنے تھے سلسلے محبت کے
اس نے سوچ رکھے تھے فائدے محبت کے
عہد لے رہا تھا وہ مجھ سے دنیا داری کا
اور دے رہا تھا بس واسطے محبت کے
دائمی نہیں ہوتی لذتِ لب و عارض
عارضی نہیں ہوتے عارضے محبت کے
کارہائے الفت کو چھوڑ کر ادھورا ہم
لکھنے بیٹھ جاتے ہیں مرثیے محبت کے
خامشی سے بس اپنا راستہ بدل لیں گے
تُو بھی آ گیا جس دن سامنے محبت کے
کون دل کی ویرانی دیکھ کے یہ سمجھے گا
اس جگہ بھی ٹھہرے تھے قافلے محبت کے
سید مبارک شاہ ہمدانی
No comments:
Post a Comment