Wednesday, 18 November 2020

ناتمام رہنے تھے سلسلے محبت کے

 نا تمام رہنے تھے سلسلے محبت کے

اس نے سوچ رکھے تھے فائدے محبت کے

عہد لے رہا تھا وہ مجھ سے دنیا داری کا

اور دے رہا تھا بس واسطے محبت کے

دائمی نہیں ہوتی لذتِ لب و عارض

عارضی نہیں ہوتے عارضے محبت کے

کارہائے الفت کو چھوڑ کر ادھورا ہم

لکھنے بیٹھ جاتے ہیں مرثیے محبت کے

خامشی سے بس اپنا راستہ بدل لیں گے

تُو بھی آ گیا جس دن سامنے محبت کے

کون دل کی ویرانی دیکھ کے یہ سمجھے گا

اس جگہ بھی ٹھہرے تھے قافلے محبت کے


سید مبارک شاہ ہمدانی 

No comments:

Post a Comment