اس رات کے سینے میں سپنے تو بہت بوئے
سپنے ہی مگر بوئے، اٹھے تو بہت روئے
یا جلتی ہوئی آنکھیں، یا وحشی اندھیرے ہیں
جاگے توبہت جاگے، سوئے تو بہت سوئے
کھوئے ہیں بہت اپنے، ڈر اب کے زیادہ ہے
ڈر اب کیوں زیادہ ہے، ایسے تو بہت کھوئے
یہ پیڑ مگر چاہے پانی بھی مسلسل اب
ہاں تخم یقیں مجھ میں تُو نے تو بہت بوئے
غم تیری جدائی کا جز تیرے کسے کہتے
بچھڑے تو بہت چپ تھے، لوٹے تو بہت روئے
اجمل صدیقی
No comments:
Post a Comment