Friday, 20 November 2020

اشک ڈھلتے نہیں دیکھے جاتے

 اشک ڈھلتے نہیں دیکھے جاتے

دل پگھلتے نہیں دیکھے جاتے

پھول دشمن کے ہوں یا اپنے ہوں

پھول جلتے نہیں دیکھے جاتے

تتلیاں ہاتھ بھی لگ جائیں تو

پر مسلتے نہیں دیکھے جاتے

جبر کی دھوپ سے تپتی سڑکیں

لوگ چلتے نہیں دیکھے جاتے

خواب دشمن ہیں زمانے والے

خواب پلتے نہیں دیکھے جاتے

دیکھ سکتے ہیں بدلتا سب کچھ

دل بدلتے نہیں دیکھے جاتے

کربلا میں رخِ اصغر کی طرف

تیر چلتے نہیں دیکھے جاتے


عبداللہ جاوید

No comments:

Post a Comment