نہ تم آئے شبِ وعدہ، پریشاں رات بھر رکھا
دِیا امید کا میں نے جلا کر تا سحر رکھا🪔
سنا تھا کُھل گئے تھے ان کے گیسو سیرِ گلشن میں
صبا تیرا بُرا ہو تُو نے مجھ کو بے خبر رکھا
بھری محفل میں نا حق رازِ الفت کر دیا افشا
محبت کا بھرم تُو نے نہ کچھ اے چشمِ تر رکھا
جو خط غیروں کے آئے، اس نے دیکھے دیر تک لیکن
مرا خط ہاتھ میں لے کر اِدھر دیکھا، اُدھر رکھا
کوئی اس طائرِ مجبور کی بے چارگی دیکھے
قفس میں بھی جسے صیاد نے بے بال و پر رکھا
یہ ممکن تھا ہم آ جاتے خرد مندوں کی باتوں میں
خوشا قسمت کہ فطرت نے ہمیں آشفتہ سر رکھا
عنایت ہے یہ تجھ پر اے نصیر استادِ فطرت کی
کہ جو بھی لفظ رکھا شعر میں، مثلِ گہر رکھا
سید نصیرالدین نصیر
No comments:
Post a Comment