Friday, 20 November 2020

آگ سی لگ رہی ہے سینے میں

 آگ سی لگ رہی ہے سینے میں

اب مزا کچھ نہیں ہے جینے میں

آخری کشمکش ہے یہ شاید

موج دریا میں اور سفینے میں

زندگی یوں گزر گئی جیسے

لڑکھڑاتا ہو کوئی زینے میں

دل کا احوال پوچھتے کیا ہو

خاک اڑتی ہے آبگینے میں

کتنے ساون گزر گئے لیکن

کوئی آیا نہ اس مہینے میں

سارے دل ایک سے نہیں ہوتے

فرق ہے کنکر اور نگینے میں

زندگی کی سعادتیں الم

مل گئیں سب مجھے مدینے میں


اسلم فرخی

No comments:

Post a Comment