تصورات میں اک زندگی بناتے ہوئے
میں ڈر گیا ہوں تمہاری کمی بناتے ہوئے
نگار خانۂ ہستی کے ایک گوشے میں
وہ ہنس رہا تھا مِری بے بسی بناتے ہوئے
وہ چاہتا تھا کہ رخصت اسے میں ہنس کے کروں
مگر میں رو پڑا اس کی خوشی بناتے ہوئے
اِدھر اُدھر کے فسانے سنانے پڑتے ہیں
کبھی کبھی تِری موجودگی بناتے ہوئے
اُسے پسند تھے جگنو، سو بند مُٹھی میں
وہ دیکھتی تھی انہیں روشنی بناتے ہوئے
بِنائے اشک سے پہلے بھی رو رہا تھا کوئی
کسی کا وقت بُرا تھا گھڑی بناتے ہوئے
تجمل کاظمی
No comments:
Post a Comment