Monday, 16 August 2021

پھر نہ کہنا تری محفل میں کہاں بیٹھ گیا

 پھر نہ کہنا تِری محفل میں کہاں بیٹھ گیا

آگ لگ جائے گی دیوانہ جہاں بیٹھ گیا

عشق سُولی پہ چڑھانے کے لیے لایا گیا

یہ تماشا تھا جہاں میں بھی وہاں بیٹھ گیا

یوں تو جانیں بھی گئیں کتنی وبا سے لیکن

شہر کا گرد و غبار اور دھواں بیٹھ گیا

تجھ سے بڑھ کر ہے یقیں تیری وفاؤں پہ مجھے

دل میں کیوں تجھ سے بچھڑنے گماں بیٹھ گیا

اشک دریا کی طرح بہنے لگے آنکھوں سے

دل کی دیواریں گریں سارا مکاں بیٹھ گیا

پانیوں پر تِری تصویر بناتے رہنا

میرے ہاتھوں میں عجب کارِ زیاں بیٹھ گیا

چشمِ ساقی سے مگر کوئی نہ محروم رہا

اس کی نظروں میں رہا جو بھی جہاں بیٹھ گیا

اس کی فریاد فہیم آج بھی ٹھہری بے سُود

عندلیب آج بھی کر کر کے فغاں بیٹھ گیا


محمد فہیم

No comments:

Post a Comment