Sunday, 15 August 2021

دل کو جس چیز کی حسرت ہے ہمیں جانتے ہیں

 دل کو جس چیز کی حسرت ہے ہمیں جانتے ہیں 

وہ کوئی چاند سی صورت ہے ہمیں جانتے ہیں 

ہمیں کس شخص کی عادت ہے تمہی جانتے ہو 

تمہیں کس شخص کی عادت ہے ہمیں جانتے ہیں 

تیرا ہنسنا تو قیامت ہے ہمیں ہے معلوم 

تیرا رونا بھی مصیبت ہے ہمیں جانتے ہیں

یوں تو دعویٰ ہے محبت کا تمہیں ہم سے مگر

تمہیں جس جس سے محبت ہے وہ ہم جانتے ہیں

غمِ دوراں سے تو بے گانہ ہوئے ہیں دانش

تیرے غم کی جو عنایت ہے ہمیں جانتے ہیں 


دانش اعجاز

No comments:

Post a Comment