ہاں اور نہیں کی باہمی تکرار دیکھیے
انکار کے لباس میں اقرار دیکھیے
جو چھو رہے ہیں عظمت و رفعت کی سرحدیں
وہ راستے ازل سے ہیں دشوار دیکھیے
آواز دے رہا ہے یہی وقت کا نقیب
مڑ مڑ کے اب نہ سایۂ دیوار دیکھیے
بہکے قدم مچلتی نگاہوں کے ساتھ ساتھ
ٹھہری ہوئی ہوا کی بھی رفتار دیکھیے
کردار آدمی کے لیے لازمی سہی
شاعر کی ذات چھوڑئیے اشعار دیکھیے
عابد اختر
No comments:
Post a Comment