رات كے ڈھلنے پہ کچھ ایسے اجالا آئے گا
چاند کو سورج کی خاطر مار ڈالا جائے گا
ہر سویرے نے کیا ہے قتل اس امید کا
آج اک اچھی خبر اخبار والا لائے گا
ماں سے کہہ دو کر دے روٹی اپنے اشکوں ہی سے تر
اس کا بچہ کب تلک سُوکھا نوالہ کھائے گا
سیم و زر کا ذکر ہی کیا، ایسا وقت آنے کو ہے
جب ہوا و آب پر انسان تالا پائے گا
میں یہ سمجھوں گا کہ میرِ شہر کی سازش ہے یہ
اب دھویں کا شہر پر بادل جو کالا چھائے گا
اینٹ گارے پر نہیں قائم عقائد کی اساس
کوئی کیا مسجد، کلیسا یا شوالہ ڈھائے گا
کیا عجب عابد جو ہیں اتنے الم دل میں مِرے
جو پرندہ پالتو ہو گا سو پالا جائے گا
عرفان عابد
No comments:
Post a Comment