Sunday, 15 August 2021

رات كے ڈھلنے پہ کچھ ایسے اجالا آئے گا

 رات كے ڈھلنے پہ کچھ ایسے اجالا آئے گا

چاند کو سورج کی خاطر مار ڈالا جائے گا

ہر سویرے نے کیا ہے قتل اس امید کا

آج اک اچھی خبر اخبار والا لائے گا

ماں سے کہہ دو کر دے روٹی اپنے اشکوں ہی سے تر

اس کا بچہ کب تلک سُوکھا نوالہ کھائے گا

سیم و زر کا ذکر ہی کیا، ایسا وقت آنے کو ہے

جب ہوا و آب پر انسان تالا پائے گا

میں یہ سمجھوں گا کہ میرِ شہر کی سازش ہے یہ

اب دھویں کا شہر پر بادل جو کالا چھائے گا

اینٹ گارے پر نہیں قائم عقائد کی اساس

کوئی کیا مسجد، کلیسا یا شوالہ ڈھائے گا

کیا عجب عابد جو ہیں اتنے الم دل میں مِرے

جو پرندہ پالتو ہو گا سو پالا جائے گا


عرفان عابد

No comments:

Post a Comment