اجنبی جس طرح اجنبی سے ملے
ہم سے وہ اس قدر بے رخی سے ملے
اور ہوں گے وہ جن کو خوشی مل گئی
ہم کو تو غم ہی غم عاشقی سے ملے
موت سے بھی بھروسہ میرا اٹھ گیا
اتنے دھوکے مجھے زندگی سے ملے
بیچ میں اک ضرورت کی دیوار ہے
آدمی کس طرح آدمی سے ملے
ہم سراپا ہے کیا آپ ہی آپ ہیں
خود سے ہم جب ملے آپ ہی سے ملے
چین بے چین ہو جائے گا خود مہک
دو گھڑی جو میری بے کلی سے ملے
مہک کیرانوی
No comments:
Post a Comment