Tuesday, 14 September 2021

اجنبی جس طرح اجنبی سے ملے

 اجنبی جس طرح اجنبی سے ملے

ہم سے وہ اس قدر بے رخی سے ملے

اور ہوں گے وہ جن کو خوشی مل گئی

ہم کو تو غم ہی غم عاشقی سے ملے

موت سے بھی بھروسہ میرا اٹھ گیا

اتنے دھوکے مجھے زندگی سے ملے

بیچ میں اک ضرورت کی دیوار ہے

آدمی کس طرح آدمی سے ملے

ہم سراپا ہے کیا آپ ہی آپ ہیں

خود سے ہم جب ملے آپ ہی سے ملے

چین بے چین ہو جائے گا خود مہک

دو گھڑی جو میری بے کلی سے ملے


مہک کیرانوی

No comments:

Post a Comment