Tuesday, 14 September 2021

جمع کرتے کرتے ہمیں منہا کر دیا

 جمع کرتے کرتے ہمیں، منہا کر دیا

ظالم نے ہر محفل میں تنہا کر دیا

سو اچھائیوں پر ایک تقصیر بھاری رہی

سارے شہر میں دوستوں نے واویلا کر دیا

اب تو کھٹکے سے بھی خوف آتا ہے

شیر تھے کبھی ہم، اب چوہا کر دیا

اب ہمت جواب دے گئی پسِ زنداں اپنی

خمیدہ کمر ہوئی تو ہم کو رہا کر دیا

اس شہر کے لوگ اب تک معصوم ہی رہے

کرشمہ جس نے کیا اس کو خدا کر دیا

کب تلک ناسور پالتے اذیتیں سہہ سہہ کر

سو ہمت کر کے گوشت سے ناخن جدا کر دیا

ہم جان سے گئے، مگر یہ تو ہوا کہ عرفان

قرض جو سر پر تھا، یکمشت ادا کر دیا


عرفان میر

No comments:

Post a Comment