Tuesday, 14 September 2021

جب نہ دفتر نہ گھر گئے میرے

 جب نہ دفتر نہ گھر گئے میرے

آنے والے کدھر گئے میرے؟

میں بلندی پہ جا کے بکھرا تھا

دور تک بال و پر گئے میرے

اس نے خیرات میں دیا پانی

جتنے برتن تھے بھر گئے میرے

میری آنکھیں نہ کھل سکیں ذیشان

دو پرندے تھے مر گئے میرے


ذیشان اطہر

No comments:

Post a Comment