Thursday, 14 October 2021

ایک تو عشق کی تقصیر کئے جاتا ہوں

 ایک تو عشق کی تقصیر کیۓ جاتا ہوں

اس پہ میں پیروئ میر کیۓ جاتا ہوں

یعنی تصویرِ زماں پر ہے تصرّف اتنا

دیکھتا جاتا ہوں، تحریر کیۓ جاتا ہوں

معذرت گھر کے چراغوں سے کروں گا کیسے

میں جو تاخیر پہ تاخیر کیۓ جاتا ہوں

باغباں! تجھ سے تو میں داد طلب ہوں بھی نہیں

پیڑ سُنتے ہیں، میں تقریر کیۓ جاتا ہوں

یہ علاقہ نہ ہو دریا کی عملداری میں

میں جہاں ناؤ کو زنجیر کیۓ جاتا ہوں

آخرش خاک اُڑا کر سرِ راہے دل کی

ایک دنیا کو میں دلگیر کیۓ جاتا ہوں

اس کی بُنیاد میں اک خام خیالی ہے نعیم

شہر جو خواب میں تعمیر کیۓ جاتا ہوں


نعیم گیلانی

No comments:

Post a Comment