اہل دولت بھی کچھ لوگ کیا ہو گئے
مال و زر ان کے جیسے خدا ہو گئے
حال مت پوچھئے مجھ سے اس دور کا
لوگ یوں غرقِ موجِ بلا ہو گئے
کارواں کیسے محفوظ رہ پائے گا
جو تھے رہزن وہی رہنما ہو گئے
جن کی ہر شام رِندوں میں گزری کبھی
وہ بھی کچھ روز سے پارسا ہو گئے
واعظِ محترم کو سر مے کدہ
دیکھ کر لوگ حیرت زدہ ہو گئے
اپنا ہمراز سمجھا ہمیشہ جنہیں
وہ بھی اب مجھ سے نا آشنا ہو گئے
دادا عارف کی شفقت کا یہ فیض ہے
تم جو حسان نغمہ سرا ہو گئے
حسان عارفی
No comments:
Post a Comment