تھی یہ امید کہ وہ لوٹ کے گھر آئے گا
کیا خبر تھی کہ با انداز دگر آئے گا
کئی زخموں کے کھنڈر اب بھی ہیں میرے دل پر
جب کریدو گے نیا رنگ ابھر آئے گا
مسکرائے گی جب آنکھوں میں ستاروں کی لڑی
آئینہ بن کے حسیں خواب نظر آئے گا
جب بھی لہرائے گی پلکوں پہ تِری یاد کی شام
دل کی وادی میں نیا چاند اتر آئے گا
دل کی راہوں کا مقدر ہے سرابوں کا سفر
جو بھی آئے گا یہاں خاک بسر آئے گا
سنگباروں کی یہ بستی ہے یہاں اے شاہین
کون ہے لے کے جو شیشے کا جگر آئے گا
سلمیٰ شاہین
No comments:
Post a Comment