Friday, 8 October 2021

حسین تاج کی صورت یہ بے صدا پتھر

 حسین تاج کی صورت یہ بے صدا پتھر

دکھا رہے ہیں محبت کا معجزہ پتھر

سنا رہے ہیں کہانی وفا پرستوں کی 

سجے ہوئے ہیں جو مقتل میں جابجا پتھر

تمہارے شہر کو میں کیوں نہ کامروپ کہوں

کہ اک نگاہ نے مجھ کو بنا دیا پتھر

کمالِ عقل نے صدیوں کا خواب توڑ دیا

قریب جا کے جو دیکھا تو چاند تھا پتھر

کریں گے اب نہ گِلہ تم سے بے وفائی کا

لو، آج ہم نے کلیجے پہ رکھ لیا پتھر

ثبوتِ سنگدلی اس سے بڑھ کر کیا ہو گا

جو پھول پھینکا میری سمت بن گیا پتھر

سمجھ سکے نہ کبھی مصلحت زمانے کی

بس اس قصور پہ کھائے ہیں بارہا پتھر

میں سنگ میل سنبل رہِ وفا میں مگر

زمانہ مجھ کو سمجھتا ہے راہ کا پتھر


صبیحہ سنبل

No comments:

Post a Comment