حسین تاج کی صورت یہ بے صدا پتھر
دکھا رہے ہیں محبت کا معجزہ پتھر
سنا رہے ہیں کہانی وفا پرستوں کی
سجے ہوئے ہیں جو مقتل میں جابجا پتھر
تمہارے شہر کو میں کیوں نہ کامروپ کہوں
کہ اک نگاہ نے مجھ کو بنا دیا پتھر
کمالِ عقل نے صدیوں کا خواب توڑ دیا
قریب جا کے جو دیکھا تو چاند تھا پتھر
کریں گے اب نہ گِلہ تم سے بے وفائی کا
لو، آج ہم نے کلیجے پہ رکھ لیا پتھر
ثبوتِ سنگدلی اس سے بڑھ کر کیا ہو گا
جو پھول پھینکا میری سمت بن گیا پتھر
سمجھ سکے نہ کبھی مصلحت زمانے کی
بس اس قصور پہ کھائے ہیں بارہا پتھر
میں سنگ میل سنبل رہِ وفا میں مگر
زمانہ مجھ کو سمجھتا ہے راہ کا پتھر
صبیحہ سنبل
No comments:
Post a Comment