Thursday, 14 October 2021

گھٹ کے جس میں سانس لیں وہ زندگانی کفر ہے

 گھٹ کے جس میں سانس لیں وہ زندگانی کفر ہے

اور مقابل ظلم ہو تو بے زبانی کفر ہے

جس پہ اتریں معجزے الفاظ کے بن کے عصا

اس سخنور کی جہاں میں بے نشانی کفر ہے

بارگاہِ عشق میں واجب ہے سجدہ ہجر کو

اور نصابِ وصل کی پوری کہانی کفر ہے

ہم نے توڑا پیاس کے تیشے سے لہروں کا غرور

جنگ دریاؤں سے ہو تو لفظ پانی کفر ہے

سر نِگوں ہو وہ بھی دہلیزِ ستم ایجاد پر

شہرِ مومن پر ستم کی راجدھانی کفر ہے

جس میں سو جائے ضمیر انساں کا گھوڑے بیچ کر

وہ بڑھاپا کفر ہے جی، وہ جوانی کفر ہے

با وضو لکھنا رباب اپنے تخیل کی غزل

ورنہ بحرِ خود کلامی کی روانی کفر ہے


سیدہ رباب عابدی

No comments:

Post a Comment