گھٹ کے جس میں سانس لیں وہ زندگانی کفر ہے
اور مقابل ظلم ہو تو بے زبانی کفر ہے
جس پہ اتریں معجزے الفاظ کے بن کے عصا
اس سخنور کی جہاں میں بے نشانی کفر ہے
بارگاہِ عشق میں واجب ہے سجدہ ہجر کو
اور نصابِ وصل کی پوری کہانی کفر ہے
ہم نے توڑا پیاس کے تیشے سے لہروں کا غرور
جنگ دریاؤں سے ہو تو لفظ پانی کفر ہے
سر نِگوں ہو وہ بھی دہلیزِ ستم ایجاد پر
شہرِ مومن پر ستم کی راجدھانی کفر ہے
جس میں سو جائے ضمیر انساں کا گھوڑے بیچ کر
وہ بڑھاپا کفر ہے جی، وہ جوانی کفر ہے
با وضو لکھنا رباب اپنے تخیل کی غزل
ورنہ بحرِ خود کلامی کی روانی کفر ہے
سیدہ رباب عابدی
No comments:
Post a Comment