Thursday, 14 October 2021

سلگتی چاندنی راتیں ہمیں واپس عطا کر دو

 سلگتی چاندنی راتیں ہمیں واپس عطا کر دو

ادھوری وہ ملاقاتیں ہمیں واپس عطا کر دو

خیال و خواب میں پہروں خیالِ یار کی مستی

وفورِ شوق کی باتیں ہمیں واپس عطا کر دو

خفا ہونا، بگڑنا، روٹھنا پھر بھی تڑپ اٹھنا

محبتوں کی وہ سوغاتیں ہمیں واپس عطا کر دو

ہر اک موسم کی چوکھٹ پر تمہاری آہٹیں سننا

وہ جلتے دن وہ نم راتیں ہمیں واپس عطا کر دو

ہمارے شہر کے ہر موڑ پر اک یاد بیٹھی ہے

نظاروں کی یہ برساتیں ہمیں واپس عطا کر دو

اگر کچھ دے نہیں سکتے تہی دامن تہی دل ہو

تو پھر وعدوں کی باراتیں ہمیں واپس عطا کر دو

مِرے سجدوں کی رعنائی محبت میں نہ کام آئی

معطر با وضو راتیں ہمیں واپس عطا کر دو

جنہیں انجام کار افسردہ و بے چین رہتا تھا

وہ وقتِ آرزو راتیں ہمیں واپس عطا کر دو


بشریٰ رحمٰن

No comments:

Post a Comment