ڈسپلن
بینک کی یونین کے عہدے دار
بینک کے مینیجر سے بدظن تھے
روز لڑتے جھگڑتے رہتے تھے
ایک دن بینک میں بہت زیادہ
ہاتھا پائی ہوئی، فساد ہوا
بات حد سے بڑھی تو بالآخر
مینیجر اور یونین والے
ایک ٹیبل پہ آ کے بیٹھ گئے
پہلے ہوتے رہے گلے شکوے
پھر مسائل پہ بات چیت ہوئی
اور گھنٹوں کی گفتگو کے بعد
ہو گیا ان میں ایک سمجھوتہ
دیکھ کر یہ عجیب تبدیلی
بینک کا ایک مستند گن مین
یونین سے جو تھا بہت بیزار
اور سبھی افسروں سے نالاں تھا
بینک کی آبرو کے پیش نظر
ہو گیا سارے بینک پر قابض
للہ الحمد ایک مدت سے
گاہکوں کو سکون حاصل ہے
داد دیتے ہیں اب تو افسر بھی
اپنے گن مین کی فراست کی
جس کے ایثار اور حکمت سے
کوئی ہنگامہ اب نہیں ہوتا
اور فضا پر سکوت طاری ہے
بینک کا کاروبار چلتا ہے
ارتقاء کاسفر بھی جاری ہے
ارتقاء کاسفر نہ رک جائے
اس لیے بینک کا نیا گن مین
یہ سمجھتا ہے میری باری ہے
فخرالدین بلے
No comments:
Post a Comment