Monday, 18 October 2021

پھول چہرہ آنسوؤں سے دھو گئے

 پھول چہرہ آنسوؤں سے دھو گئے

آئے تھے ہنسنے چمن میں رو گئے

دل یہ اُجڑا ہے کہ ان کی یاد کو

مُدتیں گزریں زمانے ہو گئے

کس لیے محفل میں اتنی برہمی

ہم چلے جاتے ہیں اُٹھ کر، لو گئے

جب چلیں گے کاٹنے کل فصل کو

تب کُھلے گا آج کیا کیا بو گئے

کوئی ٹھہرا ہے کسی کے واسطے

کہہ رہے تھے جائیں گے ہم سو گئے

ڈھونڈتے کیا گوشۂ مقصود کو

راہ کی رنگینیوں میں کھو گئے

کس لیے آئے تھے یاں تقدیر میں

بوجھ ڈھونا جسم کا تھا ڈھو گئے

چھوڑنا ممکن نہ تھا اسٹیج کو

رول اپنا کرتے کرتے سو گئے

تین ساتھی جا رہے تھے ساتھ ساتھ

ایک باقی رہ گیا ہے دو گئے

کیا یہی ہے دار فانی کی کشش

پھر نہ لوٹے اس طرف کو جو گئے

کر رہا ہے اک جہاں جن کا طواف

بت کدہ میں کس کے درشن کو گئے

آپ آزردہ ہوئے حامد خفا

لیجیۓ دونوں برابر ہو گئے


سید حامد

No comments:

Post a Comment